uRDU fONTS

اردو فانٹ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے کلک کریں

شرعی مسائل ۸



غیر ملکی مسلمان خواتین پر نگاہ
سوال ۲۹: ایسی مسلمان خواتین جو غیر ممالک میں اسلامی پردہ کرنے سے محروم ہیں ان پر نگاہ کرنے کے کیا احکامات ہیں؟
آیات عظام امام، خامنہ ای، صافی، فاضل اور نوری: احتیاط واجب یہ ہے کہ لذت کی نیت کے بغیر اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ بھی جائز نہیں ہے۔ [امام تحریر الوسیلہ، ج۲ (النکاح) مسئلہ ۲۷، فاضل و نوری تعلیمات علی العروۃ (النکاح) م۲۷، صافی ہدایۃ العبادج۲ (النکاح)م ۲۷، و خامنہ ای استفتاءات س ۵۸۲، ۵۱۶،۵۱۵]
آیات عظام تبریزی، سیستانی، مکارم اور وحید: اگر لذت کی نیت کے بغیر اورحرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو جائز ہے۔ [وحید توضیع المسائل م ۲۴۴۳، سیستانی توضیع المسائل مراجع م ۲۴۳۴، sistani.org(نگاہ) س۲، تبریزی، التعلتقہ علی منھاج الصالحین (النکاح) م ۱۲۳۲، مکارم استفتاءات ج۱ س ۸۱۲]
آیۃ اللہ بھجت: ان عورتوں پر نگاہ کرنا جائز نہیں ہے لذت کی نیت کے بغیر ہی کیوں نہ ہو۔ [بھجت دفتر]
غیر مسلمان پر نگاہ کرنا
سوال ۳۰  : کیا غیر مسلمان خواتین پرجو پردہ نہیں کرتی نگاہ کرنا جائز ہے؟
تمام مراجع عظام: اگر لذت کی نیت کے بغیر اور حرام میں پڑنے کا خطرہ ہو تو اکیلے میں ان کے بدن کے بعض حصوں کو جن پر وہ پردہ نہیں کرتیں جائز ہے۔ [توضیع المسائل مراجع م ۲۴۳۴، امام تحریر الوسیلہ ج۲ م (النکاح) م ۲۷، نوری توضیع المسائل م ۲۴۳۰، مکارم تعلیقات علی العروۃ (النکاح) م ۲۷، وحید توضیع المسائل م ۲۴۴۳، خامنہ ای دفتر]
بوڑھی خواتین پر نگاہ کرنا
سوال ۳۱: کیا بوڑھی خواتین کے ہاتھوں، گردن اور بالوں پر نگاہ کرنا جائز ہے؟
تمام مراجع عظام: اگر لذت کی نیت کے بغیر ہو تو کوئی حرج نہیں۔
[سیستانی منھاج الصالحین م ۳ (النکاح) م ۱۸، تبریزی صراط النجاۃ ج۱ س ۸۹۰، بھجت، توضیع المسائل م ۱۹۴۲، امام نوری، فاضل و مکارم تعلیقات علی العروۃ (النکاح) م۳۵دفتر صافی]
سوال ۳۲: بوڑھی خواتین جو اپنے چہرے اور بالوں پر آرائش کریں ان پر نگاہ کرنے کے کیا احکامات ہیں؟
تمام مراجع عظام: آرائش کی صورت میں ان خواتین پر نگاہ کرنا جائز نہیں ہے۔
[سیستانی منھاج الصالحین ، ج۳ ، م ۱۸ ، دفتر ھمہ مراجع ]
میمز بچے کا نگاہ کرنا
سوال ۳۳: کیا ایک سمجھدار بچہ نا محرم کے بالوں اور بدن کی طرف نگاہ کر سکتا ہے؟
تمام مراجع عظام: (مکارم اور تبریزی کے علاوہ) ایک سمجھدار لڑے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، ان کا عورتوں پر نگاہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن احتیاط کی بنا پر عورتوں کو چاہیے کہ اپنے بدن اور بالوں کو سمجھدار لڑکوں سے بچا کر رکھیں اگر شہوت کا سبب بنے کا خطرہ ہو۔
[نوری توضیع المسائل م ۲۴۳۱، توضیع المسائل مراجع م ۲۴۵۳، وحید توضیع المسائل م ۲۴۴۴]
آیات عظام تبریزی اور مکارم: ایک سمجھدار لڑکے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ان کا عورتوں پر نگاہ کرنا کوئی حرج نہیں لیکن بہتر ہے کہ عورتوں کا چاہیے اپنے بالوں اور بدن کو ان سے بچا کر رکھیں۔
[توضیع المسائل مراجع م ۲۴۳۵ ، ]
ضروری نوٹ: ایک سمجھدار لڑکے کا عورتوں پر نگاہ کرنا کوئی حرج نہیں رسالہ علمیہ میں آیا ہے، لیکن بعض فقہا نے سمجھدار کو بلوغت کی نشانی بتائی ہے اس لئے ایک سمجھدار بچہ اس میں شامل نہیں ہوتا۔

شرعی مسائل ۷



ہم جنس پر نگاہ
سوال۲۵: مرد کا مرد کے بدن کو اور عورت کا عورت کے بدن کو کہاں تک دیکھنا جائز ہے؟
تمام مراجع: اگر لذت کی نیت نہ ہو اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف بھی نہ ہو تو شرم گاہ کے علاوہ باقی تمام بدن پر نگاہ ڈالنا جائز ہے۔
[توضیع المسائل مراجع م ۲۴۳۶، ۲۴۳۸، العروۃ الوثقی ج ۲، النکاح م ۲۸، نوری ہمدانی توضیع المسائل م ۲۴۳۲، ۲۴۳۸، وحیدتوضیع المسائل م ۲۴۵۴، ۲۴۴۷، خامنہ ای استفتاءات س ۴۸۷]
بے پردہ خواتین پر نگاہ
سوال ۲۶: ایسی بے پردہ عورتیں جن پر نصیحت اثر نہ کرتی ہو، کے سر کے بالوں کی طرف نگاہ کا حکم کیا ہے؟
آیات عظام: امام خمینیؒ، صافی، خامنہ ای، فاضل، نوری: احتیاط واجب کی بنا پر اگر حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو اور لذت کی نیت سے بھی نہ ہو تب بھی جائز نہیں ہے۔
[امام خمینیؒ تحریر الوسیلہ ج۲ النکاح م ۲۷ فاضل، نوریالتعلیقات علی العروۃ الوثقی النکاح م ۲۷ صافی ہدایۃ العبادم ۲۷۲ اور خامنہ ای استفتاء س ۵۸۲ اور ۵۸۶]
آیات عظام سیستانی، تبریزی، مکارم، وحید: اگر لذت کی نیت سے نہ ہو اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف بھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
[سیستانی توضیع المسائل مراجع س ۲۴۳۴، تبریزی التعلیقہ علی منھاج الصالحین النکاح م ۱۲۳۲، مکارم استفتاءات ج۲، س ۱۰۲۹ اور ۱۰۳۹، تعلیقات علی العروۃ الوثقی النکاح م ۲۷، وحید خراسانے توضیع المسائل م ۲۴۴۳]
آیۃ اللہ بھجت: لذت کی نیت کے بغیر اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو بھی تب جائز نہیں ہے۔[بھجت دفتر]
دیہاتی عورتوں پر نگاہ
سوال۲۷: بعض علاقوں میں دیہاتی عورتیں زیادہ پردہ نہیں کرتی، کیا لذت کی نیت کے بغیر ان پر نگاہ کرنا جائز ہے؟
آیات عظام امام خمینیؒ، خامنہ ای، صافی، فاضل و نوری: احتیاط واجب یہ ہے کہ لذت کی نیت کے بغیر اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ بھی ہو تب بھی جائز نہیں ہے۔
[امام تحریر الوسیلہ، ج۲، النکاح م ۲۷، فاضل و نوری، تعلیقات علی العروۃ الوثقی (النکاح) م ۲۷، صافی ہدایۃ العباد ج۲، (النکاح) م۲۷]
آیات عظام مکارم و بھجت: اگر لذت کی نیت سے نہ ہو اور حرام میںمبتلا ہونے کا خوف بھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ [بھجت، توضیع المسائل مراجع م ۲۴۳۴، مکارم، استفتاءات ج۱ س ۸۱۲]
سوال ۲۸: کیا سنی مذہب رکھنے والی عورتوں کے بالوں اور بدن کو دیکھنا جائز ہے؟
تمام مراجع عظام: جی نہیں، ان پر نگاہ کرنے کے وہی احکامات ہیں جو شیعہ خواتین کے لئے ہیں۔
[العروۃا لو ثقی، ج۲ النکاح م ۲۷ ، ۳۱ ]

شرعی مسائل ۶



غیرارادی نگاہ
سوا ل ۲۱  : لڑکے اور لڑکیوں کی کلا سیں یو نیورسٹی میں مشترک ہو تی ہیں فطری طورپر نا محر م لڑکیوں پر غیر ارادی نگا ہ پڑتی ہے اگر لذت کی نیت سے نہ ہو تو اس کا حکم کیا ہے ؟
تما م مرا جع عظام  : اگر غیر ارادی نگا ہ بغیر لذت کے ہو تو کوئی حر ج نہیں ہے۔
]مکارم ، استفاءات ج ۲ ، س ۱۰۳۶ ، فاضل جا مع المسائل ج۲ ، س ۱۳۲۴ ،العروۃ الو ثقی ج۲ النکاح م۲۷ ، اما م خمینی ؒ تحر یر الو سیلہ ج۲ النکاح مسئلہ ۲۷ ، نو ری استفا ء ات ج۱ س ۴۸۴، توضیع المسائل م ۲۴۲۹ ، توضیع المسائل مراجع م ۲۴۳۳، صافی جا مع الاحکا م ج۲ م س ۱۷۰۰ ، ۱۷۰۲، ۱۷۰۳  ، وحید خرا سانی ، توضیع المسائل مسئلہ ۲۴۴۲، دفتر آیۃ اللہ خامنہ ای[
ضر وری نو ٹ  : آیات عظام بھجت اور صافے کے فتویی کے مطا بق چونکہ لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک کلاس میں ساتھ پڑھنا فساد کا باعث ہے لہٰذا جائز نہیں ہے۔
سوا ل ۲۲  : سڑکوں اور گلی کو چوں میں خو اتین جس حا لت و کیفیت میں آتی ہیں اس کے پیش نظر اگر ہم اپنے کا موں کے لئے گلی کوچوں اور سڑکوں پرآنے پر مجبور ہوں جب کہ ہماری نگاہ بھی ان پر پڑتی ہے تو ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
تمام مراجع عظام: عورتوں کے بدن اور بالوں پر اتفاق سے نگاہ پڑ جائے تو حرام نہیں ہے لیکن ارادۃً اور تسلسل کی نگاہ سے اجتناب لازم ہے۔
]مکا م استفتا ء ات ج ۲ س ۱۰۳۶ ، جا مع المسائل ج۲ ، س ۱۳۲۴،صافی جا مع الا حکا م ج ۲ ، س ۱۷۰۲ ، ۱۷۰۳ ، العر وۃ الو ثقی ج۲ ( النکاح ) م ۷ ۲ ، اما م تحر یر الو سیلہ ج۲( النکاح ) م ۲۷ م نو ری استفتا ء ات ج۱ م س ۴۸۴ ، سیستا نی منھا ج الصالحین ج۳ ، م ۳۶ ، دفتر وحید ، بھجت و خا منہ ای [
ضرور ی نو ٹ  : حدو د و قیود سے آزاد بے پردہ عورتوں پر نگاہ ڈالنے کے بارے میں شریعت کے حکم کا بیان ’’بے پردہ عورت پر نگاہ‘‘ کے زیر عنوان آیا ہے۔
رشتہ دا ر عورتوں پر نگا ہ
سوال ۲۳  : نا محر م خو اتین خصو صاً رشتہ دار اور جان پہنچان کی خواتین پر بغیر لذت کی نیت سے صرف ان سے محبت اور تعلق کی وجہ سے (مثلاً بہن سمجھ کر)نگاہ ڈالنے کا حکم کیا ہے؟
مراجع عظام: اگر لذت کی نیت کے بغیر ہو اور حرام میں مبتلا ہو نے کا خوف بھی نہ ہو تو چہرے اور کلائی تک ہاتھوں کو دیکھنا جائز ہے، لیکن دیگر اعضاء کی طرف چاہے بغیر لذت کی نیت کے دیکھنا حرام ہے۔
]توضیع المسائل مراجع م ۲۴۳۳ ، نو ری ہمدا نے توضیع المسائل م ۲۴ ۲۹ ، وحید خرا سانی توضیع المسائل م ۲۴۴۲ ، خامنہ ای استفتا ء س ۴۹۶، ۵۰۹ [
آیۃاللہ صافی: ان کے بدن کو دیکھنا اگرچہ لذت کی نیت سے نہ بھی ہو حرام ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر ان کے چہرے اور ہاتھوں کو کلائیوں تک بھی نہ دیکھا جائے۔
]صافی توضیع المسائل مراجع م ۲۴۳۳ ، جا مع الا حکا م ج۲ س ۱۷۰۰ ، ہدایۃ العبا د ج۲ النکا ح م ۱۸ [
محرم پر نگاہ
سوال ۲۴: آپس میں محرم مر د اور عورت ایک دوسرے کے بد ن پر کہاں تک نگاہ ڈال سکتے ہیں؟
مراجع عظام: اگر لذت کی نیت نہ ہو اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف بھی نہ ہو تو کے علاوہ تمام بدن پر نگاہ ڈال سکتے ہیں۔
]توضیع المسائل مرا جع م ۲۴۳۷ ، العر وۃ الو ثقی ج۲ النکا ح م ۳۲ ، نو ری ہمدانی توضیع المسائل م ۳۳ ۲۴ ، وحیدخرا سانی توضیع المسائل م ۴۶ ۲۴،صافے ہدایۃا لعبا د ج ۲ النکاح م ۱۷ ، دفتر آیۃ اللہ خامنہ ای [
آیۃاللہ مکارم: اگر لذت کی نیت نہ ہو اورحرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو صرف بدن کے ایسے حصے جو عام طور پر محارم کے مابین چھائے نہیں جاتے دیکھے جاسکتے ہیں لیکن باقی حصوں جیسے ناف سے زانوں تک کو احتیا ط واجب کے طو رپر جائز نہیں ہے۔[مکارم توضیع المسائل مراجع م ۲۴۳۷، تعلیقا ت علی العر وۃ الو ثقی النکاح م ۳۲ [